نئی دہلی،یکم /ستمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)جے رام رمیش، ششی تھرور اور ابھیشیک منو سنگھوی نے حال ہی میں کہا تھا کہ مودی کے ہر کام کی مذمت کرنے سے بچنا چاہئے، اب ان رہنماؤں کے بیانات پر بالواسطہ طور پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا کہ اگر وزیر اعظم مودی کے اچھے کاموں کی تلاش کی جائے تو یہ تنکے کے ڈھیر میں سوئی تلاش کرنے جیسا ہی ہوگا۔خورشید نے کہا کہ جس طرح سے ملک کو چلایا جا رہا ہے، اس سے کانگریس خاصی پریشان ہے۔ان کا یہ بیان جے رام رمیش کے اس تبصرہ کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ نریندر مودی کا گورننس ماڈل مکمل طور پر منفی کہانی نہیں ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ اگر ہم ان کے اچھے کاموں کو مسترد کرتے ہوئے ہمیشہ مذمت ہی کریں تو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔اس کے بعد ششی تھرور اور ابھیشیک منو سنگھوی نے بھی کہا کہ پی ایم مودی کی ان کے صحیح کاموں کے لئے تعریف کرنی چاہئے۔اب خورشید نے انٹرویو میں کہاکہ میرے نقطہ نظر سے پی ایم مودی نے کیا اچھا کیا، یہ تلاش کرنا ایسے ہی ہے جیسے بھونسے میں سوئی کو تلاش کی جائے۔ مودی کو لے کر جے رام رمیش اور دیگر رہنماؤں کے بیانات کو لے کر انہوں نے کہا کہ وہ کسی ایک لیڈر کو لے کر اپنی بات نہیں کہنا چاہتے۔رمیش پر انہوں نے کہاکہ انہوں نے وہ کہا جو انہیں کہنا تھا،ہر کوئی اپنی طرح چیزوں کو سمجھتا ہے اور اس کا تجزیہ کرتا ہے لیکن، جیسا کہ میں نے کہا کہ میرے لئے پی ایم مودی کے بارے میں کچھ اچھا تلاش کرنا تنکے کے ڈھیر میں سوئی تلاش کرنے جیسا ہے۔کانگریس میں گاندھی خاندان کے کردار پر خورشید نے کہا کہ اس بات میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ فی الحال پارٹی کے لئے یہ اہم مرکز ہے۔66 سالہ لیڈر نے کہاکہ بی جے پی کیا کہتی ہے اور نتیجے کیا ہیں، وہ الگ بات ہے لیکن ہم یہ مانتے ہیں کہ ان کی وجہ سے ہمارا حوصلہ بڑھتا ہے۔ پارٹی میں اندرونی اختلاف کو روکنے میں سونیا گاندھی کے کردار کو لے کر خورشید نے کہا کہ یقینی طور پر وہ پارٹی کو مضبوط کرنے کے قابل ہوں گی۔